ابنا: انسانی ہمدردی کےشعبےمیں اقوام متحدہ کےڈپٹی جنرل سکریٹری کی کینیااورسومالیہ کےتین روزہ دورے کےبعد یہ اپیل سامنےآئی ہے۔جنوبی سومالیہ میں قحط اورخشکسالی کےبعد ایک لاکھ سےزیادہ افراد اس ملک کےدارالحکومت موگادیشو چلےگئےہیں۔ان تمام باتوں کےباوجود، دنیا کےایک خطرناک ترین شہرمیں بھوک مری کاشکارعوام تک خوراک اورغذائی سامان پہنچانانہایت مشکل کام ہے۔ اتھوپیا، جیبوتی، کینیا، یوگانڈا، اورسومالیہ میں تقریبابارہ ملین افراد بھوک مری کی وجہ سےموت کی دہلیزپرکھڑےہیں۔ افریقی ممالک میں جنگ سےبدحال ملک سومالیہ نےخشکسالی اورقحط سےبہت زیادہ نقصان اٹھایاہے۔ اقوام متحدہ نےسومالیہ کےپانچ علاقوں کوقحط زدہ علاقہ قراردیاہے۔ درایں اثناافریقی یونین کی محافظ امن فوج جو سومالیہ کی عبوری حکومت کی حفاظت کررہی ہے موگادیشومیں امن واستحکام قائم کرنےکی کوشش کررہی ہے اس کےباوجود، والری آموس کولٹیروں سےتشویش ہےکہ وہ غذائی قافلوں پرحملہ کرکےقحط اوربھوک مری کاشکارافراد کےدرمیان غذا کی تقسیم میں روکاوٹ ڈالیں گےاوربدامنی وبدنظمی پیداکریں گے۔ گذشتہ ہفتےسومالیہ کےصدرشیخ شریف شیخ احمد نےموگادیشومیں تین ماہ کی ہنگامی حالت کااعلان کیاہے۔موگادیشو اور الشباب گروہ کےزيرکنٹرول دوسرےعلاقوں میں ہنگامی حالت کااعلان،قیام امن کےحوالےسےحکومت کےمطمئن ہونےکےلئےکیاگیاتھا۔اس وقت سومالیہ دنیامیں بدترین انسانی المیہ اورغذائی بحران کاشکارہے۔ انیس سواکانوےاوربانوےکےبعدسےسومالیہ میں ایساقحط اورغذائی بحران آج تک نہيں پیدانہيں ہواتھا۔اقوام متحدہ کےماہرین کےاندازوں کےمطابق اس المیہ اوربحران کےنتیجےميں اب تک کم سےکم تین لاکھ افراد اپنی جان سےہاتھ دھوچکےہيں۔............
/169